ممبئی ، 22؍مارچ(ایس او نیوز؍ایجنسی)مہاراشٹرا میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان اتوار کو دہلی میں این سی پی کے سربراہ شردپوار کی رہائش گاہ پر اگھاڑی اتحاد کے لیڈروں کی میٹنگ ہوئی،جس میں کانگریس کی جانب سے کمل ناتھ شامل ہوئے۔اس سے قبل شیوسینا لیڈر سنجے راؤت نے شردپوار سے ملاقات کی۔
شردپوارکی رہائش گاہ پر ہوئی میٹنگ کے بعد جینت پاٹل نے کہا کہ ریاستی وزیرداخلہ انیل دیشمکھ کے استعفیٰ کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جو بھی قصوروار ہوگا،اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔اے ٹی ایس اور این آئی اے تحقیقات میں مصروف ہیں۔پاٹل نے کہا کہ ریاستی سرکار ایماندارنہ طریقے اس کی تحقیقات کرے گی۔کوئی بھی افسر خواہ کتنا ہی بڑاکیوں نہ ہو،قصوروار ثابت ہونے پر سزا ملے گی۔خط کے ذریعہ جانچ کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی ہے اور بی جے پی وزیرداخلہ کے استعفیٰ کے مطالبے کے ذریعہ ماحول خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
شردپوار کی رہائش گاہ پر این سی پی ممبرپارلیمان سوپیریا سولے،مہاراشٹرا کے ڈپٹی وزیراعلیٰ اجیت پوار کے علاوہ پرفیل پٹیل اور جینت پاٹل سمیت مہاراشٹرا کے بڑے لیڈرس بھی اس میٹنگ میں موجودتھے۔ واضح رہے کہ مکیش امبانی کے گھر کے باہر پائے جانے والے دھماکہ خیز مواد کے معاملے میں مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے خلاف الزامات نے ادھو حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا تھا۔ معاملہ یہ ہے کہ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے مہاراشٹر کے سی ایم ادھو ٹھاکرے کو ایک خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ سچن واجے کو وزیر داخلہ کا تحفظ حاصل تھا، اور انہیں ہر ماہ 100 کروڑ روپے جمع کرنے کو کہا ہے-
اس سے قبل شردپورا نے کہا کہ پرم بیر نے دیشمکھ پر سنگین الزامات لگائے ہیں، لیکن کوئی ثبوت نہیں دیا۔ خط میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رقم کس کے پاس گئی، نیز خط پر پیرم بیر کا کوئی دستخط بھی نہیں ہے-
انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ مہاراشٹر حکومت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں یا نہیں،لیکن میں صرف اتنا کہوں گا کہ ان سارے معاملات کا حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
دوسری جانب مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے اتوار کے روز کہا کہ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ پر 100 کروڑ روپے کی وصولی کا الزام عائد کیا گیا ہے، اس تناظر میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دیش مکھ رقم کی یہ وصولی اپنے لئے کررہے تھے یا این سی پی یا اودھوسرکار کیلئے؟ اگر وزیر داخلہ کا ٹارگیٹ 100 کروڑ تھا تو باقی وزراکا ٹارگیٹ کتنا تھا؟ اگر ممبئی سے 100 کروڑ کی وصولی ہونی تھی تو باقی بڑے شہروں کیلئے کتنی رقم طے کی گئی تھی؟۔